ڈاکیومینٹری فلم کے کردار

سھائی ابڑو

سھائی ابڑو سندھی مسلم ہیں۔ ڈانسر، ایکٹریس اور پرفارمنگ آرٹسٹ ہیں، کراچی سندھہ سے تعلق رکھتی ہیں، وہ خدابخش ابڑو کی بیٹی ہیں جو کہ وزیول آرٹسٹ۔ ایکٹوسٹ، اور کالم نگار ہیں۔ وہ عطیہ دائود کی بھی بیٹی ہیں جو کہ ادیبہ، شاعرہ اور ایکٹوسٹ ہیں۔ سھائی سندھہ کا سفر کرتی ہیں اور اپنی تھذیب کی جڑوں سے خود کو جوڑنے کے لیے، اپنے آپ سے سوال کرتی ہیں کہ سندھی ہونے کا مطلب کیا ہے؟! اور آج سندھہ کیسے حالات سے گذر رہی ہے۔ وہ اپنے اس سفر کے دوراں یہ بھی سوچتی ہیں کہ انسان ہونا کیا مطلب رکھتا ہے؟۔۔۔ اور اس سوچ سے متعلق پیخام وہ آرٹ کے ذریعے لوگوں تک پہنچانا چاہتی ہیں۔

جگدیش آھوجا

آپ سندھی ھندو سیاستدان اور ایکٹوسٹ ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی اس جدوجہد کے لئے وقف کررکھی ہے کہ ایک آزاد سندھہ ہو جس میں اتحاد ہو، اور ساتھہ ساتھہ سندھی کلچر کے ترقی اور پھیلاو کے لئے سندھیوں میں ھم آھنگی پیدا کرنے کے لئے ہمیشہ سرگرم رہتے ہیں۔
ان کے اس یقین اور نظریے کی وجہ سے جنرل محمد ضیا الحق کے دور میں انہیں جیل جانا پڑا تھا اور ان پر تشدد بھی ہوا تھا۔ لیکن کوئی بھی جبراور سختی انہیں سچ کہنے سے روک نہیں سکی۔
آج بھی جگدیش کی جدوجہد اس مقصد کے لئے جاری ہے کہ سندھ کے دیہاتوں میں ایک روشن خیال تعلیمی نظام قائم ہوسکے جو کہ لڑکے اور لڑکیوں دونوں کے لئے ہو۔ وہ عام لوگوں کی صحت اور تھذیبی سرگرمیوں کے ساتھہ اپنی ًسندھوواسً آرگنائزیشن کے ذریعے جڑے ہوئے ہیں۔

غلام نبی آگانی

آپ سندھی مسلمان ہیں۔ چانولوں کی فیکٹری میں ملازم ہیں۔ خانپور ضلعہ شکارپور سے تعلق رکھتے ہیں۔ بہت سارے لوگوں کی طرح آپ بھی قلندر شھباز کے عقیدتمند ہیں۔ قلندر شھباز کی مزار سیوہن میں ہے۔ یہاں مزار کے اندر احاطے میں سینکڑوں لوگ ہر وقت موجود ہوتے ہیں۔ 2017 میں جب بم دہماکہ ہوا تھا تو اس میں کم سے کم نوے لوگ مر گئے تھے اور تین سو سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ یہ بھی وہاں موجود تھے اور آنکھوں کے سامنے اپنے دوستوں کو مرتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس حادثے میں ان کی سننے کی صلاحیت ختم ہوگئی ۔ آج بھی وہ قلندر کے عقیدتمند ہیں اور ہر سال حاضری دینے جاتے ہیں۔ قلندر کے مزار پر ان کے چاہنے والے عقیدتمندوں کی کبھی کمی نہیں ہوئی ۔ آج بھی کئی لوگ وہاں اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کرنے جاتے ہیں۔

ٹھاکری کشن چند راجوانی

آپ سندھی ہندو تھیں، اس وقت وہ 86 سالوں کی تھیں، جب ہماری ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ وہ اس وقت نوجوان تھیں جب ہندستان تقسیم ہوا تھا، کئی دنوں تک ان کے باپ نے اپنے تمام خاندان کو اس خوف کی وجہ سے گھر میں بند رکھا تھا کہ کہیں کوئی انہیں نقصان نہ پہنچائے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کا مسلمان پڑوسی انڈیا جارہا ہے تو انہوں اپنی بیٹی کو اس کے ساتھ بھیج دیا۔ انہوں نے برقعہ پہن کر تین دن تک ریل کا سفر طی کیا۔ اور انڈیا میں اپنی بہن سے جاکر ملیں تھیں۔ کچھ عرصے کے بعد ان کی شادی ہوگئی۔ اور پھر وہ ہانگ کانگ پھر تائیوان میں رھیں۔ اور اس کے بعد وہ کوئی تیس چالیس سال تک اسپین میں کناریائی لینڈز میں رہیں۔ جہاں 2019 میں ان کا دیہانت ہوگیا۔

دروین ھزاری

یہ سندھی ہندو ہیں۔ اور یوٹیوبر ہیں۔ الھاس نگر جو کہ بمبئے کے قریب ہے وہ وہاں پیدا ہوئے اور پلے بڑہے۔ وہ کبھی بھی سندھٰ نہیں گئے لیکن انہیں امید ہے کہ ایک دن وہ اپنی دھرتی ماں کی مٹی کو چھو سکے گا اور اپنی کلچر سے خود کو جوڑ سکے گا۔ اپنی تھذیب کی جڑوں کے ساتھہ جڑے رہنے کے لئے انہوں 2016 میں انہوں نے ایک یوٹیوب چینل کھولا تھا جو کہ سندھی زبان میں ہے، جس کا نام سندھیونظم ہے۔ اس چینل کا کام ہے کہ کامیڈی وڈیو کے ذریعے سندھی زبان اور کلچر کو فروغ دینا تاکہ یہ زبان اور کلچر زندھٰہ رہ سکیں۔ آج ان کے بنائے ہوئے وڈیوز ایک سو اسی ممالک میں لاکھوں لوگ دیکھتے ہیں۔

چندری کا خاندان

چندری کولہی قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں۔ کولہی ہندؤں میں کم ذات سمجھی جاتی ہے۔ چندری کا خاندان ٹنگڑیوں کے گاؤں میں رہتا ہے جہاں مسلمان بہت زیادہ تعداد میں رہتے ہیں۔ چندری جو کہ بارہ سال کی بچی تھی وہ اغوا کرلی گئی اور اس کو اسلام قبول کروایا گیا۔ اور ٹنگڑی ذات کے مسلمان لڑکے سے اس کی شادی کروادی گئی۔ چندری کے والدین کو اپنی بیٹی سے ملنے کی اجازت نہیں ہے۔ وہ کوئی بڑا ساکھہ والا وکیل کرنے کی سکت نہیں رکھتے جو کہ کورٹ میں کیس داخل کروا کر انہیں انصاف دلا سکے۔۔ لڑکوں اور لڑکیوں کے اغوا کے واقعات جو کہ گاؤں اور چھوٹے شہروں میں ہوتے ہیں اور پھر انہیں