اسٹل اسٹڈنگ

اب تک قائم یہ ایسی پہلی ڈاکیومینٹری فلم ہے جو کہ سندھہ اور سندہیوں کی زندگی کا مطالعہ کرتی ہے۔ اس فلم کا ڈائریکٹر ایوارڈ یافتہ میرکو پنچولی ہے، اور پروڈیوسر ہانگ کانگ، لندن اور روم میں قائم ایک کمپنی ہے جس کا نام پنچ میڈیا ہے۔
آئیں ہم مل کر ایک ایسے سفر کا مشاہدہ کریں جو کہ سات ممالک میں کیا گیا۔ اور اس کو مکمل ہونے میں تین سال سے زیادہ عرصہ لگا ہے۔ اسٹل اسٹڈنگ کے ساتھہ آپ بھی اس تلاش کے سفر کو دیکھیں کہ جس کے ذریعے سے سندھی کمیونٹی کی زندگی کی کہانی کو پیش کیا گیا ہے۔ انڈس ویلی تھذیب کا گہوارہ ہے۔ اس کی جڑیں تین ہزار سے پانچ ہزار تک پھیلی ہوئی ہیں۔ آج سندھہ وہ واحد علائقہ ہے جو کہ تقسیم ہند کے وقت بھی تقسیم نہیں ہوسکا تھا۔
تقسیم ہند کے وقت دو ملین لوگ مر گئے تھے اور پندرہ ملین انسان بے گھر ہوگئے تھے۔ اس دوراں سندھی ہندو پاکستان چھوڑ کر انڈیا اور دوسرے ممالک کی طرف ہجرت کرگئے تھے۔ اور اس طرح سے انڈیا سے پاکستان میں خاص طور پر سندھہ میں بہت بڑی تعداد میں اردو مسلمان ہجرت کرکے آئے تھے۔
اچانک سندھی کمیونٹی نے خود کو اقلیت میں بدلتے ہوئے دیکھا۔ ان کی زبان کو برٹش راج کے اثرات اور اردو زبان، تھذیب نے تھوڑا بہت بدل دیا تھا۔
اسٹل اسٹڈنگ ان انسانوں کے قدموں کے نشانات کو تلاش کرتا ہے ہے جو کہ وہاں سے ہجرت کرگئے تھے ان کی کہانیوں کو بھی تلاش کرتا ہے جو آج بھی سندھہ میں بسے ہوئے ہیں۔ آج بھی مضبوطی سے اس سرزمیں میں ان کے قدم جمے ہوئے ہیں۔ خاص طور پر سیکیولر اور روشن خیال لوگ، ایک ایسے مسلسل بدلتے ہوئے ماحول میں رہ رہے ہیں جو کہ آہستہ آہستہ ان کے لئے مشکل ہوتا جارہا ہے۔
ان کی کہانیوں کے ذریعے اسٹل اسٹڈنگ ہمیں ایسی کہانیاں سناتا ہے جو کہ قومپرستی کے بارے میں ہیں اور انتہا پرستی کے بارے میں بھی ہیں۔ ایک ایسی دھرتی کے بارے میں بھی ہیں جو کہ کس زمانے میں ایک اہم تھذیب اور مختلف مذاہب کا امن کے ساتھ رہنے